نئی دہلی،28؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھی پاکستان کو سخت پیغام دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے سرجیکل اسٹرائیک سے الگ بھی بہت سے طریقے ہیں۔انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کو دئے ایک انٹرویو کے دوران بپن راوت نے کہا کہ پاکستان سوچ رہا ہے کہ وہ ہندوستان سے ایک آسان جنگ لڑ رہا ہے جس سے اسے فائدہ مل رہا ہے تو یہ غلط ہے، ہمارے پاس سرجیکل اسٹرائیک سے الگ بھی بہت سے طریقے ہیں۔راوت نے کہا کہ ہماری فوج وحشیانہ نہیں ہے، ہم ایک نظم و ضبط والی فوج ہیں۔
وہیں امریکہ کی جانب سے حزب المجاہدین کے سرغنہ سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے پر راوت بولے کہ اب ہمیں اس پر انتظار کرنا پڑے گا کہ پاکستان اسے کس طرح لیتا ہے، کیونکہ جس دن اسے دہشت گرد قرار دیا اسی دن پاکستان نے مخالفت کر دی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ایسی ہی پابندی حافظ سعید پر بھی لگی تھی، لیکن ہم جانتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔کشمیر میں مسلسل ہو رہے تشدد پر راوت بولے کہ وہاں کے لیڈروں سے تبھی بات ہو سکتی ہے، جب وہاں پر امن بحال ہو گا۔فوج اپنا کام کر رہی ہے، امن قائم کرنا ہمارا مقصد ہے۔انہوں نے کہا جب ہمیں لگے گا کہ بات چیت سے امن ہو سکتا ہے، میں خود بات کرنے کے لئے آگے آؤں گا۔
وہیں نوجوانوں کے مسلسل پتھر بازی میں شامل ہونے پر بپن راوت نے کہا کہ غلط معلومات دے کر نوجوانوں کو بہکایا جا رہا ہے، ہم یوتھ لیڈران سے بات چیت کر رہے ہیں،میں چاہوں گا کہ لوگ تشدد کو چھوڑیں، کیونکہ ہم بالکل بھی نہیں چاہتے ہیں کہ معصوم لوگ گولی لگنے سے زخمی ہو۔وہیں میجر گگوئی کی کرتوت پر انہوں نے کہا کہ انہیں وہاں پر الیکشن کمیشن نے مدد کے لئے بلایا تھا، میں وہاں نہیں تھا۔حال ہی میں سکم بارڈر سے آئے ہندوستانی اور چینی فوجیوں کی لڑائی کی تصاویر پر بپن راوت بولے کہ ہمارے ملک پر کسی نے کوئی حملہ نہیں کیا ہے، میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں، پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ سکم کے نہیں تھے۔